15 اکتوبر 2026 - 11:45
دوسری قسط | سعودی بحران؛ واشنگٹن سے ریاض کی مایوسی اور یورپیوں کی محدود حمایت

سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر یمنیوں کے حملوں، اقتصادی ترقی کے امکانات میں کمی اور بجٹ خسارے میں اضافے نے محمد بن سلمان حکومت پر دباؤ مزید سخت کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنی حکمرانی کے دور کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یمن کی انصاراللہ نے سعودی سرزمین پر اپنے حملے شدید تر کر دیئے ہیں؛ جبکہ دوسری طرف سے ریاض کے اتحادی براہ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

دوسری قسط | سعودی بحران؛ واشنگٹن سے ریاض کی مایوسی اور یورپیوں کی محدود حمایت

دوسری قسط:

واشنگٹن سے ریاض کی مایوسی

بلومبرگ کے مطابق، سعودی عرب کی مایوسی کی سب سے واضح علامت امریکہ کے موقف سے متعلق ہے۔

بن سلمان برسوں ٹرمپ کا مکمل اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے اور گذشتہ نومبر میں، واشنگٹن کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ساتھ، امریکہ میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا وعدہ ایک ٹریلین (1000 ارب) ڈالر تک بڑھا دیا تھا۔

تاہم، صورتحال سے واقف افراد نے، مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر، بلومبرگ کو بتایا کہ امریکی حمایت اب تک انٹیلی جنس کی فراہمی، اہداف کے تعین میں مدد اور فضائی ایندھن رسانی تک محدود رہی ہے اور واشنگٹن نے جارحانہ حملوں سے گریز کیا ہے۔

امریکہ نے ریاض کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کی جنگ جاری ہے، اپنی زمینی افواج یمن میں داخل نہ کرے۔

یورپ اور خطے کے ممالک کی حمایت محدود رہی ہے

بلومبرگ کے مطابق، یورپ کی حمایت بھی سعودی توقعات سے کم ہے۔ برطانیہ نے ایک ایندھن رسان طیارہ خطے میں بھیجا ہے اور فرانس نے بھی، سعودی عرب کے اہم تیل مراکز میں سے ایک 'ینبع' میں فوج، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا وعدہ دیا ہے۔

تاہم، برطانیہ میں مزید دفاعی امداد حاصل کرنے کی ریاض کی درخواستیں ابھی تک منظور نہیں کی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں مشرق قریب کے امور کی سابق نائب وزیر باربرا لیف (Barbara Leaf) نے کہا: "سعودی بادشاہت کا دفاع کرنا، بہترین حالات میں بھی، مشکل ہے، کیونکہ بہت سے اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ جارحانہ جنگ کی توسیع حوثیوں کے حملوں کے دائرہ مزید بڑھا سکتی ہے اور اس مشکل دفاع کو مشکل تر کر دیتی ہے۔"

سعودی عرب کا پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ جس کا اگست میں اعلان کیا گیا، اب تک محدود مدد فراہم کر سکا ہے۔ ان دونوں ممالک نے سعودی عرب کے دفاع کے لئے فوج اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ عہد صرف دفاعی نوعیت کا ہے۔

خلیج فارس میں سعودی عرب کے پڑوسی ممالک بھی جنگ میں داخل ہونے کا رجحان نہیں رکھتے۔ ریاض کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ اتحاد یمن اور سوڈان میں دونوں ممالک کے مقابلے کی وجہ سے دراڑوں سے دوچار ہو گیا ہے [اور اس کے نتیجے میں دونوں سعودیہ اور امارات کے درمیان محاذ آرائی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے جو بدستور قائم ہے]۔

بلومبرگ نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ خطے کے بہت سے ممالک اب بھی جنگ کے دوران ایران کے حملوں کا مقابلہ کرنے سے ہونے والے نقصانات کی تعمیر و مرمت میں مصروف ہیں۔

قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر مہران کام روا نے کہا: "خلیج فارس کے ممالک ایک بڑی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف، ان کے پاس ـ محمد بن سلمان کو ـ مؤثر اور قابل ذکر مدد فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha